کورونا وائرس ویکسینوں کے فوائد انکے خطرات سے بڑھ کر ہیں: برطانوی نگران ادارۂ ادویات

برطانیہ میں ادویات کے نگران ادارے کا کہنا ہے کہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ کورونا وائرس ویکسینوں کے فوائد، انکے خطرات سے بڑھ کر ہیں۔

ادویات اور تحفظ صحت سے متعلق مصنوعات کی نگران ایجنسی نے کووڈ 19 ویکسینوں کے محفوظ ہونے کے جائزے اور تجزیے سے متعلق اعداد و شمار کا جمعہ کو اجرا کیا۔

برطانیہ نے فائزر کی تیار کردہ ویکسین لگانے کا آغاز گزشتہ دسمبر اور آسٹرازینیکا کی ویکسین کا استعمال جنوری میں شروع کیا تھا۔

جنوری کے اواخر تک جن 71 لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد کو کم سے کم ایک بار ویکسین لگائی جا چکی ہے ان میں سے 114 لوگوں کو اینافیلاکسیز سمیت الرجی کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائیس ہزار 820 افراد میں ٹیکہ لگائے جانے کے مقام کے آس پاس بازو میں سوزش، فلو جیسی علامات، سر درد، سردی سے ٹھٹھرنے، تھکن اور پٹھوں کے درد سمیت مشتبہ ضمنی مضمرات کی شکایات پائی گئیں۔ یہ رد عمل ٹیکہ لگائے جانے کے ذرا بعد ظاہر ہوئے اور ایک یا دو دن میں ٹھیک ہو گئے۔

نگران ادارے کا کہنا ہے کہ اینافیلاکسیز بہت ہی کم ظاہر ہونے والا ضمنی اثر ہے اور بیشتر دیگر ویکسینوں سے بھی اسکا تعلق ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ دیگر علامات، ٹیکہ لگائے جانے سے قطع نظر بھی نمودار ہو سکتی تھیں۔