حکومت جاپان کا ہنگامی حالت مرحلہ وار اُٹھانے پر غور

جاپانی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مختلف علاقوں میں انفیکشن کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے انسداد کورونا وائرس اقدامات کو مرحلہ وار نرم کرنے پر غور کرے گی۔ کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے ترمیم شدہ قوانین آئندہ ہفتے سے نافذ العمل ہونا ہیں۔

حکومت نے ٹوکیو، اوساکا اور دیگر 8 پریفیکچروں کے لیے کورونا وائرس ہنگامی حالت میں 7 مارچ تک توسیع کر دی ہے۔ ہنگامی حالت 4 ہفتے سے نافذ العمل ہے اور ابتدائی اعلان کے مطابق اسے اتوار کے روز ختم ہونا تھا۔

محکمہ صحت کے حکام نئے انفیکشنز کی تعداد میں کمی کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ تاہم، حکومت کا اندازہ ہے کہ مسلسل احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ طبی سہولیات پر ابھی بھی کافی زیادہ بوجھ ہے۔

حکومت نے عوام سے غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے، اور گھر سے کام کرنے کی کوششوں کو وسعت دینے کی اپیل کا اعادہ کیا ہے۔

حکومت نے تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے کے سیزن سے قبل بلدیات سے درخواست کی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں پر زور دیں کہ تقریبات کے موقع پر انسداد کورونا وائرس اقدامات پر عمل کیا جائے۔ حکومت نے عوام سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ پارٹیوں کے انعقاد سے گریز کیا جائے۔

حکومت کا منصوبہ ہے کہ اُن علاقوں سے ہنگامی حالت 7 مارچ سے پہلے ہی اُٹھا لی جائے جہاں صورتحال بہتر ہو جائے۔ تاہم حکومت، اس بات پر غور کر رہی ہے کہ اگر مخصوص علاقوں میں انفیکشنز کی تعداد مسلسل زیادہ رہے یا اِن کے دوبارہ تیزی سے بڑھنے کا اندیشہ ہو، وہاں پابندیوں کو مرحلہ وار نرم کیا جائے۔

خصوصی انسداد کورونا وائرس قانون سمیت دیگر ترمیم شدہ قوانین کا اطلاق آئندہ ہفتے کے دن سے ہونا ہے۔ یہ قانون وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کی وضاحت پر مبنی ہے۔

مذکورہ اقدامات کے مطابق حکام ،قانون پر عمل درآمد نہ کرنے والے افراد اور کاروباری اداروں پر جرمانہ عائد کر سکیں گے۔ ان کے تحت پریفیکچروں کے گورنروں کو مرکزی حکومت کی جانب سے ہنگامی حالت کے اعلان سے قبل ہی انسداد وائرس اقدامات لاگو کرنے کی بھی اجازت ہو گی۔

حکومت کا ویکسینوں کے حوالے سے کہنا ہے کہ اس کا منصوبہ ہے کہ وہ غیر ملکی رہائشیوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے اخراجات ادا کرے گی۔ اور مزید برآں یہ کہ صحت معائنوں کے لیے درکار دستاویزات کئی زبانوں میں تیار کی جا رہی ہیں۔