اقتدار پر فوج کے قبضے کے خلاف میانمار میں مظاہروں میں اضافہ

میانمار میں فوج کی جانب سے ملکی اداروں کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں ظاہر کیے جانے کے باوجود پیر کے روز فوج کی طرف سے حکومت کا تختہ الٹے جانے کے خلاف ملک میں مظاہروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آنگ سان سُو چی کی زیر قیادت جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی سے تعلق رکھنے والے 70 کے قریب قانون سازوں نے اقتدار پر فوج کے قبضے کی مخالفت ظاہر کرنے کے لیے دارالحکومت نیپیدو میں اجلاس منعقد کیا۔

ایک شہری گروپ کے مطابق بڑے شہر مندالے میں جمعرات کے روز مظاہرین اور فوجی اہلکاروں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

دریں اثناء، میانمار کے سرکاری ٹیلی ویژن نے جمعرات کی شب خبر دی ہے کہ فوج کے کمانڈر ان چیف سینئر جنرل مِن آنگ ہلائن نے ملکی معیشت اور عوام کی زندگی میں استحکام لانے کے لیے تعاون حاصل کرنے کی غرض سے بینکاری اور دیگر شعبوں کے عہدیداروں سے ملاقات کی ہے۔

فوج نے سپریم کورٹ کے نئے جج تعینات کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

میانمار حکومت کے سابق مشیر اور ایک مقامی تھنک ٹینک کے تجزیہ کار کِن زو وِن نے این ایچ کے کو بتایا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنے سے دو روز قبل فوج نے آنگ سان سُو چی کے ساتھیوں سے مذاکرات شروع کیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ آنگ سان سُو چی کے ساتھیوں نے گزشتہ سال منعقدہ عام انتخابات میں فوج کی طرف سے دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کرانے سے انکار کر دیا تھا۔