ٹوکیو اولمپکس کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ نے خواتین سے متعلق بیان پر معذرت کرلی

ٹوکیو اولمپکس اور پیرالمپکس کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ موری یوشیرو نےاپنے متنازع بیان سے متعلق سوشل میڈیا پر شدید ردعمل اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی طرف سے توجہ مبذول ہونے پر معذرت کر لی ہے۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ استعفیٰ دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے قبل ازیں، اسی ہفتے کہا تھا کہ جن اجلاسوں میں خواتین ہوتی ہیں ان میں بہت طویل وقت لگتا ہے کیونکہ وہ بہت زیادہ گفتگو کرتی ہیں۔

جناب موری نے کہا، "میں نے جو کہا وہ نامناسب تھا اور یہ اولمپکس و پیرالمپکس کی روح کے خلاف ہے۔ لہٰذا میں نے جو کیا مجھے اس پر شدید افسوس ہے۔ میں اپنے الفاظ واپس لینا چاہتا ہوں اور جو کچھ میں نے کہا اس سے جن لوگوں کو تکلیف پہنچی میں ان سے معذرت کروں گا"۔

جناب موری نے بدھ کے روز منعقدہ جاپانی اولمپک کمیٹی کے کاؤنسلرز کے غیرمعمولی اجلاس کے دوران بیان دیا تھا۔

پچاس سے زائد شرکاء کو جن میں کچھ آن لائن شرکت کر رہے تھے، بورڈ ارکان کی کم از کم 40 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل کرنے کے ہدف سے متعلق وضاحت دی گئی تھی۔

یہ اجلاس ختم ہونے کے قریب پہنچنے پر جناب موری نے جاپان رگبی فٹبال یونین کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے تجربے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں خواتین بورڈ ارکان کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اجلاس معمول سے دو گنا طویل ہوئے۔

انہوں نے خواتین کے شدید احساسِ رقابت کو اس کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک رکن اپنا ہاتھ بلند کرے تو دیگر سمجھتی ہیں کہ انہیں بھی بات کرنی چاہیے اور اسی وجہ سے ہر ایک کچھ نہ کچھ کہتی ہے۔

جناب موری کے اس بیان پر اجلاس میں شریک کسی نے رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

سوشل میڈیا کے استعمال کنندگان نے اس معاملے پر توجہ دی۔ جاپان میں ٹویٹر پر موری کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

کئی غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے بھی خبریں دی ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے خبر دی ہے کہ اس تنازعے نے منتظمین کے بوجھ میں اضافہ کر دیا ہے جنہیں پہلے ہی اس سال موسم گرما میں منعقد ہونے والے کھیلوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور عوام کی قابل توجہ مخالفت کا سامنا ہے۔

دوسری جانب، فرانس کے خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لکھا ہے کہ موری نے اپنے الفاظ پر جنسی امتیاز کا تنازع بھڑکانے کا خطرہ مول لیا ہے۔