ایران کی یورینیم افزودگی میں پیشرفت

ایران نے 2015 کے جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، نئے تنصیب شدہ جدید سینٹری فیوجز کے ذریعے یورینیم کی افزودگی شروع کر دی ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ’آئی اے ای اے‘ نے منگل کے روز این ایچ کے کو بتایا کہ ایران نے نطنز میں واقع اپنی مرکزی تنصیب پر، گزشتہ ہفتے کے روز سے نئے سینٹری فیوجز کے ذریعے یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

آئی اے ای اے کے لیے ایران کے سفیر کاظم غریب آبادی نے ٹویٹ کیا کہ نئے سینٹری فیوجز کی گنجائش روایتی کے مقابلے میں 4 گنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ فردو میں بھی سینٹری فیوجز کی ایک اور جدید قسم لگائی جارہی ہے۔ انہوں نے اضافہ کرتے ہوئے لکھا کہ جلد ہی مزید پیش رفت ہونا ہے۔ نطنز اور فردو، دونوں مقامات وسطی ایران میں ہیں۔

جوہری سمجھوتے کے تحت ایران پر جدید آلات کے ذریعے یورینیم کی افزودگی پر پابندی ہے، کیونکہ اس افزودہ یورینیم کے فوجی استعمال کا خدشہ ہے۔

ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ آئی اے ای اے کے اچانک معائنوں پر رواں ماہ سے پابندی عائد کر سکتا ہے۔ ان سلسلہ وار اقدامات کو امریکی صدر جو بائیڈن پر دباؤ ڈالنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکہ جوہری سمجھوتے سے نکل گیا تھا اور اس نے ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

ایران چاہتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ پابندیاں اٹھا لے۔ تاہم، اس کی جوہری پیشرفت پر امریکہ اور یورپ دونوں کو سخت تشویش ہے۔