میانمار کی فوجی بغاوت پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے میانمار میں فوجی بغاوت کے سبب وہاں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان ارکان نے منگل کو آن لائن ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس میں میانمار سے متعلق سیکریٹری جنرل کی خصوصی مندوب کرسٹین شرانر برگینر کو مدعو کیا گیا۔

اجلاس میں ہوئے تبادلہ خیال کی تفصیلات اس وجہ سے دستیاب نہیں کہ میانمار کے فوجی رہنماؤں سے قریبی تعلقات رکھنے والے ملک چین کی درخواست پر میڈیا کو اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

اقوام متحدہ نے محترمہ برگینر کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ اس وجہ سے حیران رہ گئیں کہ فوجی رہنماؤں نے تختہ الٹنے سے ایک روز قبل انہیں بتایا تھا کہ وہ حکومت اور انتخابی کمیشن سے بات چیت جاری رکھیں گے۔

اطلاعات کے مطابق محترمہ برگینر نے مزید کہا کہ ہنگامی حالت کا اعلان اور غیر فوجی حکومت کے رہنماؤں کو حراست میں لینا آئین کی خلاف ورزی اور غیر قانونی ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد برطانوی سفیر بابرا ووڈورڈ نے ٹویٹر پر جاری کردہ ویڈیو میں کہا کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے مابین تشویش کا اظہار واضح طور پر سنا۔

کونسل کے صدر کا کہنا ہے کہ اجلاس ختم ہو گیا ہے تاہم ارکان اس سلسلے میں انتظامات کر رہے ہیں کہ انکے تبادلہ خیال کے نتیجے میں کوئی بیان جاری کیا جائے یا نہیں۔