میانمار میں فوج نے انتظامی کونسل تشکیل دے دی

میانمار کی فوج، پیر کو حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک پر حکمرانی کے لیے تیزی سے انتظامی ڈھانچہ تشکیل دے رہی ہے۔

مسلح افواج نے، عملی طور پر آنگ سان سوچی کی زیر قیادت قائم جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ فوج محترمہ آنگ سان سوچی اور حکمران جماعت کے دیگر عہدیداران کو حراست میں لے کر ہنگامی حالت کا اعلان کر چکی ہے۔

فوج نے منگل کے روز اعلان کیا کہ کمانڈر انچیف سینئر جنرل مِن آنگ ہائن کی سرپرستی میں ایک نئی انتظامی کونسل تشکیل دے دی گئی ہے۔

ملک میں کاروباری سرگرمیاں بحال کی جا رہی ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے شہر یانگون میں واقع حصص منڈی نے بدھ سے لین دین بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حصص منڈی میں پیر سے کاروبار معطل چلا آ رہا ہے۔

جاپان بیرونی تجارت تنظیم جیٹرو کے یانگون میں واقع دفتر نے کہا ہے کہ بری اور سمندری راستوں سے ہونے والی عمومی تجارت کو بحال کرنے کی ایک کوشش کے طور پر میانمار کے آن لائن کسٹمز نظام کا کام منگل کے روز بحال کر دیا گیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ اقدامات فوج کے اس مقصد کے غماز ہیں کہ فوجی بغاوت کے سبب جنم لینے والی تشویش اور افراتفری کا مداوا کرتے ہوئے استحکام بحال کیا جائے۔

امریکہ میں وزارتِ خارجہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ میانمار میں فوج کا اقتدار پر قبضہ بغاوت ہے، جو میانمار کے لیے امریکی اقتصادی امداد پر نظرثانی کی جانب ایک قدم ہے۔

دیگر مغربی جمہوریتیں بھی میانمار میں اقتدار پر فوج کے قبضے کی مذمت کر رہی ہیں۔