بائیڈن کا میانمار پر پابندیاں بحال کرنے کا اشارہ

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے میانمار میں فوجی بغاوت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس ملک پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا اشارہ دیا ہے جس نے جمہوریت کی جانب پیش رفت کی تھی۔

صدر بائیڈن نے پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی بغاوت، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی جانب ملک کی پیش رفت پر براہ راست حملہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو فوج پر یہ دباؤ ڈالنے کیلئے کوششوں میں شامل ہونا چاہیے کہ اس نے جس اقتدار پر قبضہ کیا ہے اسے چھوڑ دے اور جن لوگوں کو حراست میں لیا ہے اُنہیں رہا کرے۔

سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کی انتظامیہ نے میانمار کے خلاف پابندیاں 2016ء میں اس بنیاد پر ختم کر دی تھیں کہ یہ ملک جمہوریت کی جانب گامزن ہے۔ مذکورہ پابندیوں کے تحت امریکہ نے بعض کمپنیوں اور لوگوں سے لین دین اور میانمار سے یاقوت سمیت قیمتی پتھروں کی درآمدات ممنوع قرار دے دی تھیں۔

لیکن تازہ ترین بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پیشرفت کو پلٹ دینے سے پابندیوں سے متعلقہ قوانین اور اختیارات پر فوری نظرثانی اور بعد ازاں مناسب کارروائی کی ضرورت ہوگی۔

وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ امریکہ کی خطے اور دنیا بھر میں اتحادیوں اور شراکتداروں کے ساتھ کئی سطحوں پر گہری مشاورت ہوئی ہے۔