میانمار کی فوج نے اقتدار پر گرفت مضبوط کرلی

میانمار میں فوج، کمانڈر انچیف مِن آنگ ہائن کی زیر قیادت، اقتدار کو مستحکم کرنے کیلئے بظاہر تیزی کے ساتھ اقدامات کر رہی ہے۔ قبل ازیں، فوج آن سان سوچی سمیت غیر فوجی رہنماؤں کو حراست میں لے چکی ہے۔

فوج نے ایک سال کیلئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ وعدہ کر رہی ہے کہ آزادانہ اور شفاف انتخابات منعقد ہوں گے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ کب ہوں گے۔

سرکاری ٹیلیویژن کی نشریات میں فوج کی جانب سے پیغامات کی بھرمار ہو رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اقتدار پر قبضہ جائز ہے کیونکہ نومبر میں منعقدہ انتخابات میں رائے دہندگان سے متعلق دھوکہ دہی کے الزامات کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔

لیکن ملک کے انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ رائے دہی میں کوئی بڑی بے قاعدگیاں نہیں ہوئی تھیں۔

ملک کے سب سے بڑے شہر یانگون میں لوگ کام اور خریداری کیلئے معمول کے مطابق آمد و رفت کر رہے ہیں۔ لیکن پولیس نے یانگون بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب جانے والی سڑکوں پر ٹریفک پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ ہوائی اڈے کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

حکومت کے اہم مراکز کے ارد گرد فوج اور پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔

یانگون میں ایک جاپانی کاروباری شخص کا کہنا تھا کہ وہ تشویش کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور فون تک رسائی ابھی تک مشکل ہے۔ مذکورہ شخص نے یہ بھی کہا کہ وہ سلامتی اور معاشی صورتحال کے بارے میں حقیقتاً فکر مند ہیں۔