روس بھر میں احتجاجی مظاہرے، 5 ہزار سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا

انسانی حقوق کے ایک گروپ کے مطابق روس کی سلامتی افواج نے مسلسل دوسرے اختتام ہفتہ پر بڑے پیمانے کے مظاہروں کے دوران، 80 سے زائد شہروں میں 5 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ مظاہرین، حزب اختلاف کے رہنما الیگزی نوالنی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

باور کیا جاتا ہے کہ اتوار کے روز حراست میں لیے گئے مظاہرین کی تعداد، 23 جنوری کو ہونے والے پہلے مظاہرے کے وقت حراست میں لیے گئے افراد سے زائد ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ماسکو میں چند ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا جو احتجاج میں شامل نہیں تھے۔ 20 کے پیٹے کے ایک نوجوان نے بتایا کہ اُس کے ایک دوست کو زیرِ زمین چلنے والی ریل گاڑی سے اترتے ہی حراست میں لے لیا گیا۔

جناب نوالنی صدر ولادیمیر پُوٹن کے ناقد ہیں۔ جنوری کے وسط میں انہیں جرمنی سے واپسی پر عارضی رہائی کی شرائط کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ گزشتہ سال اگست میں انہیں مبینہ طور پر روس میں زہریلا اعصابی مادہ دیے جانے کے بعد سے وہ جرمنی میں زیر علاج تھے۔

منگل کے روز ایک عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا ان کی پچھلی سزا کی معطلی ختم کر کے انہیں جیل بھیجا جائے یا نہیں۔

حزب اختلاف نے اسی روز عدالت کے سامنے احتجاج کی اپیل کی ہے۔