میانمار میں فوجی کارروائی پر امریکہ کو تشویش

امریکہ کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج کی جانب سےملک کی عملی رہنماء آنگ سان سوچی اور حکمران جماعت کے دیگر اعلیٰ اراکین کو زیر حراست لیے جانے کی خبروں پر اُسے تشویش ہے۔

وہائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ امریکہ زور دیتا ہے کہ فوج اور دیگر تمام جماعتیں جمہوری اُصولوں اور قانون کی بالادستی کا احترام کریں اور تمام زیرِ حراست افراد کو رہا کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر جو بائیڈن کو قومی سلامتی کے مشیر جیک سَلیوان نے صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔

مذکورہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’امریکہ میانمار کے حالیہ انتخابی نتائج میں ترمیم یا جمہوری انتقالِ اقتدار میں خلل اندازی کے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتا ہے، اور اگر یہ اقدامات واپس نہیں لیے گئے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘‘۔

آسٹریلوی وزیر خارجہ ماریس پیئن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آسٹریلیاء کی حکومت کو اقتدار پر قبضے کی خبروں پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ میانمار کی فوج کو قانون کی بالادستی کا احترام کرنا چاہیے۔