آنگ سان سوچی کو گھر پر نظر بند کر دیا گیا: حکمراں جماعت کا بیان

میانمار کی فوج نے ملک کی عملاً رہنماء محترمہ آنگ سان سوچی اور حکمران جماعت کے دیگر اعلیٰ اراکین کو حراست میں لے لیا ہے۔

ان کی جماعت، حکمران نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی، این ایل ڈی کا کہنا ہے کہ محترمہ آنگ سان سوچی کو گھر پر نظر بند کر دیا گیا ہے اور صدر وِن مائنٹ کو بھی پارٹی کے دیگر انتظامی عہدیداروں کے ہمراہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔

فوج نے پیر کی صبح سرکاری ٹیلی ویژن کے ذریعے ملک بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور کہا کہ اس نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔

فوج نے اس اقدام کی وجہ، اُس کے دعویٰ کے مطابق گزشتہ نومبر کے عام انتخاب میں ہوئی دھاندلی کو قرار دیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ کمانڈر انچیف مِن آنگ ہائنگ ملکی سربراہ ہوں گے۔

فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک اور عام انتخابات فوج کی نگرانی میں منعقد کروائے جائیں گے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے اس خبر کی رپورٹ فوجی بغاوت کے طور پر دی ہے۔

یورپین کونسل کے صدر چارلس مشیل نے ٹوئیٹ میں کہا’’ میں میانمار میں ہونے والی فوجی بغاوت کی مذمت کرتا ہوں اور فوج سے مطالبہ کرتا ہوں کہ غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے تمام افراد کو رہا کیا جائے‘‘۔

ہر 5 سال بعد منعقد ہونے والے ان عام انتخابات میں این ایل ڈی نے جن نشستوں پر مقابلہ کیا تھا ان میں سے 80 فیصد سے زائد جیت لی تھیں۔ فوج کی زیر قیادت سابقہ حکومت سے قریب حزبِ مخالف کی ایک جماعت اپنی نشستوں کی بڑی تعداد ہار گئی تھی۔

فوج کا دعویٰ ہے کہ رائے دہندگان کے رجسٹر میں لاکھوں جعلی نام درج تھے اور رائے دہی کے عمل میں دیگر بے ضابطگیاں بھی ہوئی تھیں۔ وہ حکومت اور انتخابی کمیشن سے چھان بین اور کارروائی کرنے کا مطالبہ کر رہی تھی۔

میانمار کی پارلیمان، انتخاب کے بعد پیر کے روز پہلی بار اجلاس منعقد کرنے والی تھی۔ تاہم فوج نے اتوار کی شب ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ جوں کی توں صورتحال میں کوئی اگلا قدم نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔