برطانیہ کی جانب سے ہانگ کانگ کے رہائشیوں کیلئے نئے ویزے کا اجراء

برطانوی حکومت، ہانگ کانگ کے اُن رہائشیوں کیلئے ایک نئے ویزے کی درخواستیں قبول کرنے کا آغاز کر رہی ہے جو سمندر پار برطانوی شہری’’بی این او‘‘ کی حیثیت کے حامل ہیں۔

برطانوی حکومت نے’’ بی این او‘‘ رکھنے والوں کیلئے نیا ویزا نظام متعارف کروانے کے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ قبل ازیں، چین کی حکومت نے گزشتہ سال ہانگ ہانگ کیلئے نیا قومی سلامتی قانون نافذ کیا تھا۔ اس قانون کا مقصد ہانگ کانگ میں حکومت مخالف اور جمہوریت کی حامی تحریکوں کو کچلنا ہے۔

مذکورہ نئے نظام کے تحت، ایسے افراد اور ان کے مجاز اہلِ خانہ کو خصوصی ویزا جاری کیا جائے گا جو ہانگ کانگ کی 1997ء میں چین کو حوالگی سے قبل پیدا ہوئے۔ اتوار کے روز سے آن لائن درخواستیں دی جا سکیں گی۔

یہ نیا ویزا رکھنے والے لوگ برطانیہ میں تعلیم حاصل اور کام کر سکیں گے۔ اس ویزے کے ساتھ برطانیہ میں پانچ سال قیام کے بعد وہ طویل سکونت کیلئے اور بعد ازاں برطانوی شہریت کیلئے درخواست دینے کے مجاز ہوں گے۔

برطانوی حکومت کے تخمینے کے مطابق 52 لاکھ افراد یا ہانگ ہانگ کی تقریباً 70 فیصد آبادی اس اسکیم کیلئے اہل ہو گی۔ اس نے یہ تخمینہ بھی لگایا ہے کہ پہلے پانچ سالوں میں ہانگ کانگ کے تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار رہائشی برطانیہ منتقل ہو جائیں گے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے "ہم برطانیہ اور ہانگ کانگ دونوں کی آزادی، خودمختاری اور اقدار کو عزیز سمجھنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں"۔

چین کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اب وہ بی این او پاسپورٹ کو سفر کیلئے کارآمد یا شناختی دستاویزات کے طور پر تسلیم نہیں کرے گی۔ اُس نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ وہ مزید اقدامات کرنے کا حق رکھتی ہے۔