امریکی صحافی کے قتل کے ملزمان کی بریت پر امریکا اور پاکستان کا تبادلہ خیال

امریکی وزیر دفاع اینٹونی بلنکن نے سنہ 2002 میں ایک امریکی صحافی کو قتل کرنے کے ملزم کو بری کرنے کے ایک پاکستانی عدالتی فیصلے پر اپنے پاکستانی ہم منصب سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے جمعہ کے روز پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے فون پر بات کی۔

وال اسٹریٹ جرنل کے رپورٹر ڈینیئل پرل کو اُس دوران اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا جب وہ کراچی میں اسلامی عسکریت پسندوں سے متعلق چھان بین کر رہے تھے۔

پاکستانی عدالت عظمیٰ نے جمعرات کے روز مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ اور دیگر کو بری کر دیا۔ انہیں قتل اور دیگر جرائم میں مجرم ٹھہرایا جا چکا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق یہ فیصلہ ناکافی شواہد کی بنیاد پر کیا گیا۔

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ مقتول پرل کے اغوا اور قتل کے ذمہ دار شیخ اور دیگر ملزمان سے متعلق انصاف کے تقاضے کیسے پورے کیے جائیں۔

باور کیا جاتا ہے کہ جناب بلنکن نے شیخ کو امریکا کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔