جاپانی حکومت نے کورونا وائرس ویکسین کے ضمنی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے گروپ قائم کر دیا

جاپان کی وزارتِ صحت نے فائزر کی کورونا وائرس ویکسین کے ضمنی مضر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک گروپ قائم کیا ہے۔

حکومت، منظوری کی صورت میں، فروری کے اواخر میں ویکسین کے ٹیکے لگانے کا آغاز کرنا چاہتی ہے، جس میں طبی کارکنان پہلی ترجیح ہیں۔

وزارت کا کہنا ہے کہ دس ہزار سے زائد ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر طبی کارکن جو بیس سال یا اس سے زائد العمر ہیں انکی باری سب سے پہلے ہے۔ مذکورہ تمام افراد رضامندی ظاہر کر چکے ہیں۔

حکومت نے ٹیکے لگانے کے لیے ملک بھر میں ایک سو قومی اور سرکاری ہسپتالوں کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔

ان مراکز کے ذمہ یہ کام سونپا گیا ہے کہ مذکورہ افراد کو دوسرا ٹیکہ لگائے جانے کے بعد 28 دن تک انکا مشاہدہ کریں۔

اسکے بعد حکومت کا جائزہ گروپ مذکورہ ڈیٹا حاصل کرے گا، جس کے بارے میں وزارت کا کہنا ہے کہ اُسے باقاعدگی سے جاری کیا جاتا رہے گا۔

موڈرنا اور آسٹرازینیکا کی تیار کردہ ویکسینوں کے لیے بھی اسی طرح کے جائزے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان دونوں کو بھی ابھی منظوری نہیں ملی ہے۔