جاپان میں 7 فروری کو ہنگامی حالت کا خاتمہ مشکل ہے

جاپان کے حکومتی حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑتا جا رہا ہے کہ گیارہ پریفیکچروں میں نافذ ہنگامی حالت، بعض علاقوں میں اسکی طے شدہ اختتامی تاریخ کے بعد بھی جاری رہ سکتی ہے۔

کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی تعداد پر قابو پانے کے لیے ابتدائی طور پر ٹوکیو اور ملحقہ علاقوں میں ہنگامی حالت کا نفاذ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے اوساکا اور دیگر علاقوں تک توسیع دے دی گئی تھی اور اسے سات فروری تک جاری رہنا ہے۔

گزشتہ ہفتے یومیہ متاثرین کی تعداد میں اس سے پیشتر کے ہفتے کی نسبت کمی دیکھی گئی ہے، تاہم طبی نظام بدستور دباؤ میں ہے۔

بیمار افراد میں معمر افراد کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔ ان افراد میں علامات سنگین ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

وزیر صحت تامُورا نوری ہیسا کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں نئے کیسوں کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن اسے خوش آئند قرار دینا قبل از وقت ہو گا۔

حکومت ماہرین کی آراء سننے کے بعد آئندہ ہفتے، ہنگامی حالت ختم کرنے یا جاری رکھنے کا فیصلہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔