اولمپک کھیلوں کے کھلاڑیوں کو حفاظتی ٹیکوں میں ترجیح کے معاملے پر عالمی ادارۂ صحت کے تحفظات

عالمی ادارۂ صحت کے خطرات سے نمٹنے کے ایک ماہر مائیکل ریان نے ٹوکیو گیمز سے قبل کے عرصے میں اولمپک کھلاڑیوں کو کووڈ 19 کے حفاظتی ٹیکے لگانے میں ترجیح دینے کے خیال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ادارے کے ہیلتھ ایمرجنسیز پروگرام کے سربراہ سے پیر کے روز ایک نیوز کانفرنس میں پوچھا گیا کہ کیا ان کھیلوں کے کھلاڑیوں کو ویکسین دینے کے عمل میں ترجیح دی جانی چاہیے۔

جناب ریان نے کہا کہ سب سے زیادہ خطرے کا شکار افراد تک کے لیے ویکسین کی وافر مقدار موجود نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے اس بحران میں، صفِ اول میں مصروفِ عمل طبی کارکنوں، عمر رسیدہ افراد اور انتہائی لاچار افراد کو ویکسین کے سلسلے میں اولیت دینے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ نومبر میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے صدر تھامس باخ نے کھلاڑیوں کو ویکسین لگانے سے متعلق عزم ظاہر کیا تھا۔ ٹوکیو میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ویکسین کی دستیابی کی صورت میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی، ویکسین لگانے کے اخراجات برداشت کرے گی۔

قبل ازاں رواں ماہ، بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے سب سے دیرینہ موجودہ رکن ڈِک پاؤنڈ کہہ چکے ہیں کہ مقابلہ بازوں کو ویکسین لگانے کے عمل میں ترجیح دی جانی چاہیے۔

اے ایف پی نیوز ایجنسی کے مطابق، فرانسیسی اولمپک کمیٹی کے سربراہ ڈینس ماسیگلیا نے پیر کے روز کہا ہے کہ بغیر ویکسین کے، ان کھیلوں میں شرکت کے لیے جاپان جانے والے کھلاڑیوں کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کھلاڑیوں کو دو ہفتے قرنطینہ میں رہنا پڑے گا اور صبح شام معائنے کرانا پڑیں گے۔

توقع ہے کہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے انتظامی بورڈ کے بدھ کے اجلاس میں حفاظتی ٹیکوں کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔