بائیڈن نے میکسیکو کے راستے ایلومینیم اور فولاد کی درآمد پر ٹیکس عائد کر دیا

امریکی تجارتی حکام کو خدشہ ہے کہ ان کے چینی حریف میکسیکو کے راستے دھاتیں امریکی مارکیٹ میں پہنچا کر ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ میکسیکو سے آنے والے غیر ملکی اسٹیل اور ایلومینیم پر محصولات عائد کر رہے ہیں۔

امریکی حکام شمالی امریکہ کے تجارتی معاہدے کے حصے کے طور پر میکسیکو سے ڈیوٹی فری درآمدات کی اجازت دیتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوا کہ چینی حکام میکسیکو کے راستے اپنی مصنوعات بھجوا کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ امریکی حکام میکسیکو، امریکہ یا کینیڈا سے باہر پگھلا کر تیار شدہ اسٹیل کی درآمدات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کریں گے۔ وہ ایلومینیم کی درآمد پر 10 فیصد ٹیرف بھی عائد کریں گے جس سے چین، روس، بیلاروس اور ایران کے پیداواری یونٹ متاثر ہوں گے۔

میکسیکو کے حکام تعاون کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اسٹیل مصنوعات کے درآمد کنندگان کو، بنانے والے ملک کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی شرط عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن اپنے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کی ’خامیوں‘ کو دور کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس خلا کی وجہ سے سرکاری سبسڈیوں سے استفادہ کرنے والی سستی چینی دھاتوں کو امریکی مارکیٹ میں امڈ آنے کا موقع میسر آیا۔ صدر بائیڈن ملکی مصنوعات سازوں اور مزدوروں کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ دوبارہ منتخب ہونے کیلئے انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔