نیٹو سربراہ اجلاس کا اعلامیہ جاری، رہنماؤں کا یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ

نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن، نیٹو کے رکن ملکوں کے رہنماؤں نے اپنے اتحاد کی یکجہتی پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اپنے سربراہ اجلاس کے اعلامیے میں یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ اعلامیہ بدھ کو واشنگٹن میں نیٹو کے سربراہ اجلاس میں منظور کیا گیا۔

رہنماؤں نے یوکرین پر روس کے جاری حملوں کے جواب میں نیٹو کے اتحاد اور یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’’انفرادی آزادی، انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی مشترکہ اقدار سے بندھے ہیں‘‘۔

انہوں نے یوکرین کی مدد کے لیے نیٹو کے کردار کو مضبوط بنانے، فوجی سازوسامان کی فراہمی اور یوکرینی فوجیوں کی تربیت میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر اتفاق کیا۔

نیٹو کے ارکان نے روس کے حملے کے آغاز کے بعد سے ہر سال یوکرین کو 40 ارب یورو یا تقریباً 43 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی ہے۔ انہوں نے اگلے سال بھی اس امداد کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

رہنماؤں نے یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ یوکرین کے جنگی محاذوں پر گولہ بارود وغیرہ کی قلت ہو رہی ہے، نیٹو ممالک کی دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی بھی تصدیق کی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رہنما، روس کی جانب سے پیر کے روز یوکرین کے دارالحکومت کِیف میں بچوں کے ہسپتال سمیت یوکرینی شہریوں پر کیے جانے والے حملوں کی ’’سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں‘‘۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ روس فوری طور پر جنگ بند کرے۔

دستاویز میں رہنماؤں نے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں چین کو ’’فیصلہ کن معاون‘‘ بھی قرار دیا۔ مزید کہا گیا ہے کہ چین کے اقدامات سے اُن خطرات میں اضافہ ہوتا ہے جو روس اپنے ہمسایہ ملکوں اور یورو اٹلانٹک خطے کی سلامتی کے لیے پیدا کر رہا ہے۔

انہوں نے چین پر زور دیا کہ وہ دوہرے استعمال کے سازوسامان اور خام مال کی منتقلی سمیت روس کی جنگی کوششوں کی ہر طرح کی مادی اور سیاسی حمایت بند کر دے۔