اوکیناوا اسمبلی میں امریکی فوجیوں کے جنسی حملوں کے خلاف قرارداد

جاپان کے اوکیناوا پریفیکچر کی اسمبلی نے پریفیکچر میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں کی جانب سے جنسی تشدد کیے جانے کے متعدد الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک قرارداد اور ایک بیان کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے۔

یہ کارروائی بدھ کو اسمبلی کے مکمل اجلاس میں کی گئی ہے۔

اس قرارداد میں جاپان میں تعینات امریکی سفیر راحم ایمانوئل سمیت امریکہ سے احتجاج کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انسانی وقار کو پامال کرنے والے گھناؤنے جرم، جنسی تشدد کو کسی بھی ملک کے قوانین اور انصاف کے تحت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

قرارداد میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے جرائم کو دوبارہ سرزد ہونے سے روکنے کے لیے نظم و ضبط کی سخت تر پابندی جیسے ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھاتے ہوئے اوکیناوا کے رہائشیوں کو ایسے اقدامات کی تفصیل سے اگاہ کیا جائے۔

منظور کردہ بیان میں وزیر اعظم کِشیدا فومیو سمیت حکومت جاپان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ بیان میں تحقیقاتی حکام اور وزارت خارجہ کی جانب سے اوکیناوا پریفیکچر کی حکومت اور مقامی بلدیات کو سنگین واقعات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں ناکامی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرزعمل نے پریفیکچر کی عوام میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔