جاپانی عدالت نے بغیر سرجری جنسی تبدیلی کی منظوری دے دی

جاپان کی ایک ہائی کورٹ نے ایک خواجہ سرا کی سرجری کرائے بغیر اپنی قانونی جنس تبدیل کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔

اس کیس کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے بدھ کے روز جنسی شناخت کی بیماری میں مبتلا ایک شخص کے لئے یہ فیصلہ جاری کیا، جو قانونی طور پر مرد ہے لیکن ایک عورت کی زندگی گزار رہا ہے۔

اس قانون کے تحت جنس تبدیل کرانے کے خواہشمند افراد کو سرجری کرانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کے تولیدی افعال باقی نہ رہیں اور ان کے جنسی اعضاء صنف مخالف کی جنس کے اعضاء سے مماثلت رکھیں۔

مذکورہ شخص کی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے اکتوبر میں فیصلہ سنایا تھا کہ تولیدی اعضا کو ہٹانے کے لیے سرجری کی ضرورت غیر آئینی ہے کیونکہ اِس سے نقصان نہ پہنچنے کے حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سرجری کے حوالے سے از سر نو سماعت کے حکم کے بعد ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت ہوئی۔

بدھ کے روز فیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ نے مبینہ طور پر کہا کہ اِس شرط کے تحت آپریشن کروا کر نقصان نہ پہنچنے کے حق سے محرومی یا کسی کی جنسی شناخت کو قانونی طور پر تسلیم نہ کرنے میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور کرنا حد سے زیادہ پابندی عائد کرنا ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ تشریح کرنا مناسب ہے کہ سرجری کرائے بغیر بھی کوئی شخص دوسروں کو مخالف جنس کا نظر آنے کی صورت میں اس شرط پر پورا اترتا ہے۔