جاپانی وزیرِ اعظم جبری نس بندی کے مقدمات میں مدعیان سے معافی مانگیں گے

جاپان کے وزیرِ اعظم کِشیدا فُومیو نے کہا ہے کہ وہ جبری نس بندی سے متعلقہ مقدمات میں اگلے ہفتے مدعیان سے معافی مانگنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ اقدام جاپان کی عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے دیے گئے اِس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے کہ متروکہ اصلاحِ نسل تحفظ قانون، جو بعض معذور افراد کو اِس طرح کے طریقۂ کار سے گزرنے پر مجبور کرتا تھا، غیر آئینی تھا اور عدالت نے زرِ تلافی ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

کِشیدا نے حکمراں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے اعلیٰ انتظامی عہدیداروں کے منگل کے روز منعقدہ اجلاس میں کہا کہ وہ 17 جولائی کو مدعیان سے ملاقات کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ دلی شرمندہ ہے اور انتہائی معذرت کرتی ہے۔

حکومت عدالتی فیصلے کی بنیاد پر زرِ تلافی کی ادائیگی کے طریقۂ کار کو انجام دینے اور متاثرین کے مصائب اور اُن کی معمّری کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک نئی زرِ تلافی اسکیم پر غور کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

توقع ہے کہ کِشیدا مدعیان کے ساتھ ملاقات میں نئی زرِ تلافی اسکیم کی وضاحت کریں گے۔