چین، فلپائن کا متنازع سمندر میں مرجانی چٹانوں کے اثرات پر اختلاف

چین نے کہا ہے کہ ایک چوتھائی صدی قبل فلپائن کی جانب سے ایک جنگی جہاز کو جان بوجھ کر گراؤنڈ کیے جانے کے بعد بحیرہ جنوبی چین کی ایک ساحلی جھیل میں مرجان کی چٹانوں کے ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

سیکنڈ تھامس شول مرجان کی چٹانیں ہیں، جو اسپراٹلے جزائر کا حصہ ہے۔ چین، فلپائن اور دیگر ان کی ملکیت کے دعوے دار ہیں۔

چین کی قدرتی وسائل کی وزارت نے اپریل سے جون تک اس ساحلی جھیل میں مرجان کی چٹانوں کے ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں پیر کو ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

منیلا نے اس ساحلی جھیل کے شمال میں جان بوجھ کر ایک فوجی بحری جہاز کو1999 میں گراؤنڈ کر دیا تھا۔ فلپائنی فوجیوں کو جہاز پر تعینات کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحری جہاز کے 400 میٹر کے دائرے میں مرجان بنانے والے مونگوں کا گھیر 2011 کے مقابلے میں 87 فیصد سے زیادہ کم ہوا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سروے کردہ دوسرے علاقوں کے مقابلے میں اس علاقے میں انحطاط کی شرح کہیں زیادہ ہے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاز پر زنگ لگنے کے ساتھ ساتھ جہاز میں سوار اہلکاروں کی طرف سے فضلے اور سیورج کی نکاسی کی وجہ سے نزدیکی پانی کا معیار پہلے سے گر گیا ہے۔

رپورٹ میں مچھلیوں کے شکار کے متروک جالوں اور کوڑے کرکٹ کی تصاویر شامل ہیں، جو فلپائن کی دکھائی دیتی ہیں۔

دریں اثنا، فلپائن کا کہنا ہے کہ چین بحیرہ جنوبی چین کے دیگر حصوں میں سمندر سے زمین حاصل کرنے کے منصوبے پر پیشرفت کر رہا ہے اور منیلا مرجان کی چٹانوں پر اس کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لے رہا ہے۔