فرانس میں بائیں بازو کا اتحاد ایوانِ زیریں میں سب سے بڑی طاقت

فرانس میں بائیں بازو کا اتحاد ملکی پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی سب سے بڑی طاقت بننے سے، انتخابات سے پہلے کی پیش گوئیوں کی نفی ہو گئی ہے۔ تاہم کوئی بھی بلاک، اکثریت بنانے کے لیے درکار ووٹ حاصل نہیں کر سکا۔

30 جون کو منقعدہ انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد اتوار کو دوسرا مرحلہ منعقد ہوا ہے۔ جون میں یورپی پارلیمان کے انتخابات میں صدر ایمانوئل میکرون کے اتحاد کو انتہائی دائیں بازو کی نیشنل ریلی پارٹی کے ہاتھوں، بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس پر صدر میکرون نے قبل از وقت انتخابات کے فوری انعقاد کا کہا تھا۔

عوامی نشریاتی ادارے، فرانس اِنفو نے وزارتِ داخلہ کے اعلان کی بنیاد پر خبر دی ہے کہ بائیں بازو کے نیو پاپولر فرنٹ نے قومی اسمبلی کی 577 نشستوں میں سے 180 نشستیں حاصل کی ہیں۔

فرانس اِنفو نے یہ بھی کہا کہ میکرون کے اعتدال پسند حکمران حلقے نے 158 نشستیں حاصل کیں، جو کہ قبل از انتخابات کی اس کی نشستوں سے تقریباً 100 کم ہیں، جب کہ نیشنل ریلی اور اس کے اتحادیوں نے 143 نشستیں حاصل کی ہیں۔

نیشنل ریلی پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے ایک ہفتہ قبل ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لیے تھے۔ لیکن نیو پاپولر فرنٹ نے نیشنل ریلی کو سب سے بڑی طاقت بننے سے روکنے کی کوشش میں 200 سے زیادہ انتخابی حلقوں میں امیدواروں کو متحد کرنے کے لیے میکرون کے حکمران کیمپ کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔

انتہائی بائیں بازو کی جماعت کے رہنما ژان لوُک میلونشوں نے کہا ہے کہ میکرون کو نیو پاپولر فرنٹ سے نئی حکومت کی تشکیل کا کہنا چاہیے۔

لیکن میکرون کا کیمپ اور میلونشوں دونوں ہی اتحاد بنانے سے انکاری ہیں کیونکہ ان کی پالیسیاں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ کسی بھی گروپ کے لیے پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو گا، جس کی وجہ سے فرانس کی سیاست انتہائی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے۔