بائیڈن کا صدارتی انتخابی مہم جاری رکھنے پر اصرار

امریکی صدر جو بائیڈن نے ان میڈیا رپورٹس کے تناظر میں صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل رہنے کے اپنے ارادے کا اعادہ کیا ہے کہ بڑے ڈیموکریٹک عطیہ دہندگان ان سے اس دوڑ سے الگ ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بائیڈن کی عمر کے بارے میں خدشات پچھلے مہینے کے آخر میں بڑھ گئے تھے، جب 81 سالہ بائیڈن نے اپنے ریپبلکن حریف، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ٹیلی ویژن پر ہونے والے مباحثے کے دوران ناقص کارکردگی دکھائی تھی۔

بائیڈن نے اتوار کو پنسلوانیا کے ایک چرچ میں حاضرین سے خطاب کیا، جو نومبر کے انتخابات میں سخت مقابلے والی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھنے کے اپنے ارادے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد "امریکہ کو دوبارہ متحد کرنا ہے"۔

لیکن بائیڈن پر مہم چھوڑنے کے لیے مسلسل دباؤ ہے، ایوان نمائندگان میں پانچ ڈیموکریٹس کھلے عام ان کی دستبرداری کے خواہاں ہیں۔

اے بی سی نیوز کا کہنا ہے کہ بائیڈن کا جمعہ کو اس نشریاتی ادارے کے ساتھ انٹرویو اور مباحثے میں ان کی خراب کارکردگی کے بعد دیگر واقعات نے "کچھ بڑے ڈیموکریٹک عطیہ دہندگان کے خدشات کو ختم نہیں کیا"۔

واشنگٹن پوسٹ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ "اگلے چند دن اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوں گے کہ آیا بائیڈن اپنی پارٹی کا اعتماد برقرار رکھ سکتے ہیں"۔

یوم آزادی کی تعطیل کے بعد پیر کو قانون ساز کانگریس کے اجلاس کے لیے واپس آرہے ہیں۔ بائیڈن منگل کو واشنگٹن میں شروع ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے آخری دن جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کرنے والے ہیں۔