ایران کے نومنتخب صدر کا کامیابی کے بعد پہلا خطاب

ایران کے نومنتخب صدر مسعود پزشکیان نے جمعے کے روز منعقدہ صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں کامیابی کے بعد اپنا پہلا خطاب کیا ہے۔

پزشکیان نے واحد اصلاح پسند اُمیدوار کے طور پر 53 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے سخت گیر قدامت پسند سعید جلیلی کو شکست دی، جنہوں نے تقریباً 44 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

پزشکیان نے انتخابی مہم کے دوران مغربی ممالک کے ساتھ مزید بات چیت پر زور دیا تھا، جبکہ جلیلی نے مغرب کا مقابلہ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ کرنے کا عزم کیا۔

صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب 49.8 فیصد رہا، جو جُون میں منعقدہ رائے دہی کے پہلے مرحلے سے تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ پزشکیان کی حمایت اُن لوگوں نے کی جو موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں۔

پزشکیان نے کامیابی کے بعد ہفتے کے روز ایک خطاب میں کہا کہ ایران کو ایسے لوگوں کی تشویش کم کرنے کے امتحان کا سامنا ہے جو بہتر زندگی کے لیے کوشاں ہیں۔

سابق ڈپٹی پارلیمانی اسپیکر اور وزیرِ صحت پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ اُنہوں نے اس صدارتی انتخاب میں عوام سے جھوٹے وعدے نہیں کیے۔

اُنہوں نے مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرنے پر آمادگی ظاہر کی، تاکہ اقتصادی پابندیاں ہٹوائی جائیں اور ایران کی جوہری ترقی سے متعلق 2015ء کے معاہدے پر دوبارہ عمل کیا جائے۔

دارالحکومت تہران میں لوگوں نے تبدیلی کی اُمید ظاہر کی۔ ایک 42 سالہ شخص نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نومنتخب صدر پابندیاں ہٹوانے کے لیے جلد از جلد کام شروع کر دیں۔

ایک 42 سالہ خاتون نے کہا کہ سماجی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے وہ پزشکیان سے دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی توقع رکھتی ہیں۔

ایران کے اعلیٰ ترین مذہبی قائد آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نومنتخب صدر کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے پیشرو کے طرزِ عمل کو جاری رکھیں اور ملک کی ترقی کے لیے روشن مستقبل کا تصور کریں۔

پزشکیان سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی کی جگہ لیں گے، جو مئی میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

توجہ اِس بات پر مرکوز ہے کہ آیا نومنتخب صدر قدامت پسندوں کے زیرِ کنٹرول پارلیمان میں خارجہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا آغاز کر سکیں گے یا نہیں۔