جاپان امریکی فوجی اہلکاروں کی بد سلوکی کے واقعات پر زیادہ شفافیت کا خواہاں

جاپان میں رہنما امریکی فوجی اہلکاروں کے مبینہ ناروا جنسی سلوک کے واقعات کے بارے میں شفافیت بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ اوکیناوا میں پریفیکچرل حکام کو اسطرح کے سلسلہ وار واقعات کی فوری اطلاع نہ دے پانے کے بعد حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔

مارچ میں، امریکی فضائیہ کے ایک رکن پر ایک نابالغ لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے اور ہوس کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اور جون میں، ایک میرین پر ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کرنے کے شبے میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

پولیس نے جمعرات کو ناہا میں ایک اور میرین کو گرفتار کیا۔ اس پر ایک عورت کی چھاتیوں سے چھیڑ خانی کرنے کا شبہ ہے، لیکن وہ ان الزامات سے انکاری ہے۔

جاپان کے اعلیٰ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ نیا نظام زیادہ موثر ہو گا۔

چیف کابینہ سیکریٹری ہایاشی یوشیماسا نے کہا، "ہمیں اوکیناوا میں اس نوعیت کے واقعات پر جوابی اقدامات کے بارے میں فوری بات چیت کی ضرورت ہے، تاکہ امریکی فوجی اہلکاروں کے جرائم کو روکا جا سکے۔ اس سلسلے میں متعلقہ وزارتیں اور ایجنسیاں تعاون کریں گی اور مقامی حکومتوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ معلومات کا اشتراک کریں گی"۔

وزارت خارجہ اب تفتیش کاروں کی فراہم کردہ معلومات وزارت دفاع کو دے گی، جو اس کے بعد متعلقہ مقامی حکومتوں کو مطلع کرے گی۔

اوکیناوا میں کچھ لوگوں نے ان تبدیلیوں کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ انہیں بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔

اوکیناوا کے گورنر تماکی ڈینی نے کہا، "یہ آگے کی جانب ایک قدم ہے۔ حکومت نے معلومات کے اشتراک سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کی ہے"۔

جاپان میں امریکہ کے سفیر نے جمعہ کو وزارت خارجہ کا دورہ کیا۔

راہم ایمانوئل نے کہا، "ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں، چونکہ اس کا تعلق تربیت اور تعلیم سے ہے اس لیے یہ از خود واضح ہے۔ یہ کام نہیں کر رہا ہے"۔

ایمانوئل نے عندیہ دیا کہ واشنگٹن اس مہینے کے آخر تک امریکی فوجی اہلکاروں کے طرز عمل کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے گا، جب دونوں ممالک کے خارجہ اور دفاعی سربراہان ٹوکیو میں ملاقات کریں گے۔