سنکیانگ فسادات کو 15 سال، چین ’سیکیورٹی‘ اقدامات جاری رکھے گا

چین کے سنکیانگ ویغور نیم خود مختار علاقے میں حکومت مخالف مظاہروں کے، وسیع پیمانے پر خونی فسادات میں تبدیل ہونے کو، جمعہ کے روز 15 سال بیت گئے ہیں۔ چین کو سنکیانگ ویغور علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود وہ وہاں حفاظتی اقدامات جاری رکھنے پر تیار نظر آتا ہے۔

نسلی اقلیتی ویغور باشندوں نے 5 جولائی 2009 کو سنکیانگ کے مرکزی شہر اُرُومچی کی سڑکوں پر چینی حکومت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی تھی۔ لیکن یہ مظاہرہ پرتشدد ہو گیا۔ حکام کے مطابق تقریباً 200 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بعد میں حکومت نے سنکیانگ کی معیشت کو ترقی دینے کے لیے اپنی کوششیں تیز کیں، کیونکہ باور کیا جاتا تھا کہ ویغور اور ہان نسل کے لوگوں کے درمیان دولت کے فرق سے پیدا ہونے والی مایوسی مظاہروں کے پیچھے کارفرما عوامل میں سے ایک تھی۔ سنہ 2009 کے مقابلے میں گزشتہ سال اس علاقے کی جی ڈی پی تقریباً 4.5 گنا زیادہ تھی۔

بقول حکام کے انہوں نے سنکیانگ میں نسلی تقسیم اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اِن میں ایسی اسلامی رسوم پر پابندیاں بھی شامل ہیں جن پر ویغور باشندے عمل پیرا تھے۔

چین کا مزید کہنا ہے کہ اس نے ویغور باشندوں کو انتہا پسندانہ تعلیمات سے نجات دلانے کے لیے خصوصی مراکز میں تعلیم اور تربیت فراہم کی ہے۔

لیکن چین کو انسداد دہشت گردی کے پروگراموں کی آڑ میں سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بین الاقوامی الزامات کا سامنا ہے۔