جو بائیڈن کا امریکی صدارتی دوڑ سے دستبردار نہ ہونے کا عزم

امریکی صدر جو بائیڈن نے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لیے اپنی انتخابی مہم جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ وہ گزشتہ ہفتے کے ٹیلی ویژن مباحثے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے تھے جس کے باعث یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ انتخابی دوڑ سے دستبردار ہو جائیں۔

اپنے متوقع ریپبلکن حریف، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مباحثے کے دوران بعض مواقع پر بائیڈن کی زبان الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہی تھی اور وہ گھبرائے ہوئے اور متزلزل نظر آئے۔

یہاں تک کہ کانگریس کے کچھ ڈیموکریٹ ارکان نے بھی بائیڈن سے مطالبہ کیا کہ وہ صدارتی دوڑ سے دستبردار ہوجائیں۔

جناب بائیڈن نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 20 ریاستی گورنروں سے ملاقات کی۔ نائب صدر کمالا ہیرس بھی صدر کے ساتھ موجود تھیں۔

میری لینڈ کے گورنر ویس مُور نے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ صدر کی یہ سوچ بالکل واضح ہے کہ وہ انتخاب جیتنے کے لیے میدان میں اترے ہیں۔

مِینیسوٹا کے گورنر ٹِم والز نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی اس بات سے انکاری نہیں کہ جمعرات کی رات صدر بائیدن کی کارکردگی بُری تھی۔

لیکن انہوں نے صدر کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ ملاقات میں شرکت کرنے والے تمام گورنر متحد ہو کر صدر بائیڈن کا ساتھ دیں گے۔