جاپان میں جنسی تشدد کے مزید تین واقعات، امریکی فوجی اہلکار ملوث

جاپانی حکومت کے ترجمان اعلیٰ نے جنسی تشدد کے مزید تین واقعات کا انکشاف کیا ہے جن میں مبینہ طور پر امریکی فوجی اہلکار ملوث ہیں۔

اوکیناوا پریفیکچر میں جنسی زیادتی کے دو مبینہ واقعات سامنے آنے کے بعد چیف کابینہ سکریٹری ہایاشی یوشی ماسا نے بدھ کے روز صحافیوں سے بات چیت کی۔

گزشتہ ہفتے یہ انکشاف ہوا تھا کہ امریکی فضائیہ کے ایک رکن پر دسمبر میں ایک کم عمر لڑکی کے اغوا اور جنسی زیادتی کے الزام میں مارچ میں فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ گزشتہ ماہ ایک امریکی میرین فوجی پر ایک خاتون پر جنسی حملے کی کوشش اور اُسے زخمی کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

نہ صرف اِن واقعات کو حال ہی تک منظر عام پر نہیں لایا گیا بلکہ حکومت اِن کے بارے میں پریفیکچر کے حکام کو بھی آگاہ کرنے میں ناکام رہی۔

جناب ہایاشی نے کہا کہ نئے سامنے آنے والے تین کیسوں میں سے ایک میں، امریکی فوجی اہلکار پر رضامندی کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنے کا شُبہ ہے۔

انہوں کہا کہ اِن مبینہ واقعات میں سے دو گزشتہ سال فروری اور اگست میں جبکہ تیسرا واقعہ جنوری میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مشتبہ شخص پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔

جناب ہایاشی نے کہا کہ حکومت ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے امریکہ سے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا کہتی رہے گی۔