غزہ سے انخلا کے نئے اسرائیلی احکامات پر اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش

اقوام متحدہ نے اسرائیلی فوج کی طرف سے جنوبی غزہ کے کچھ حصوں سے انخلا کے تازہ ترین احکامات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے پیر کو خان یونس، رفح اور جنوب کے دیگر علاقوں میں لوگوں کو فوری انخلا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

منگل کو باقاعدگی سے منعقد کی جانے والی نیوز کانفرنس میں، اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ یہ احکامات 117 مربع کلومیٹر علاقے یا غزہ کی پٹی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر لاگو ہوتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ان احکامات سے تقریباً ڈھائی لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔ اکتوبر میں لڑائی شروع ہونے اور رہائشیوں کو شمالی غزہ چھوڑنے کا حکم دئیے جانے کے بعد یہ سب سے بڑا انخلا ہو گا۔

جناب دوجارک نے کہا، "اتنے بڑے پیمانے پر انخلا سے شہریوں کے مصائب میں اضافہ ہو گا اور یہ انسانی ضروریات میں اضافے کا باعث بنے گا۔"

غزہ کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی اور تعمیر نو کے سینئر کوآرڈینیٹر سِگریڈ کاگ نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بتایا تھا کہ غزہ میں 19 لاکھ افراد بے گھر ہیں۔