جاپان میں 20 سال بعد نئے کرنسی نوٹوں کا اجراء

جاپان نے بدھ کے روز 20 سالوں میں پہلی بار نئے کرنسی نوٹ جاری کیے ہیں۔

ٹوکیو کے علاقے نیہون باشی میں واقع بینک آف جاپان بی او جے کے ہیڈ آفس میں آج صبح ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

بی او جے کے گورنر ’’اُو اے دا کازُو او‘‘ نے کہا کہ بینک آج 16 کھرب ین یا تقریباً 9 ارب 90 کروڑ ڈالر مالیت کے نئے کرنسی نوٹ گردش میں لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

صبح 8 بجے کے فوراً بعد مرکزی بینک نے نئے بینک نوٹوں کی کھیپ مالیاتی اداروں کے حوالے کر دی۔ توقع ہے کہ بہت سے مالیاتی ادارے بدھ کو نئے نوٹ منتخب کردہ شاخوں کو فراہم کریں گے۔

دس ہزار ین کے نئے نوٹ پر ’’شیبو ساوا ایچی‘‘ کی تصویر نقش ہے۔ یہ کاروباری شخصیت بابائے جدید جاپانی معیشت کے نام سے جانی جاتی ہے۔ وہ تقریباً پانچ سو کاروباروں کے آغاز یا فروغ میں شامل تھے۔

پانچ ہزار کے نئے نوٹ پر ’’تُسودا اُمیکو‘‘ کی تصویر ہے جو حصول تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے والی پہلی جاپانی خواتین میں شامل تھیں۔

ایک ہزار ین کے نئے نوٹ پر ’’کیتا ساتو شیبا سابُورُو‘‘ کی تصویر ہے۔ وہ ایک ماہر جرثومیات ہیں جنہوں نے تشنج کے علاج میں کامیابی حاصل کی تھی۔

جعلسازی کرنے کو مزید مشکل بنانے کے لیے نئے کرنسی نوٹوں میں جدید ترین ہولوگرام ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ نیشنل پرنٹنگ بیورو کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر یہ پہلا موقع ہے جب کرنسی نوٹوں میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔