جاپان میں 20 سال میں پہلی بار نئے بینک نوٹ متعارف

جاپان بدھ کو 20 سال میں پہلی بار نئے بینک نوٹ متعارف کرائے گا۔

ملک میں تین نئے بینک نوٹ گردش میں لائے جائیں گے جن میں جعل سازی کو روکنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

دس ہزار ین کے نوٹ پر، جس کی مالیت موجودہ شرح تبادلہ کے اعتبار سے 62 ڈالر کے قریب ہے، تاجر شِیبوساوا اےای اِچی کی تصویر ہے، جنہیں جدید جاپانی معیشت کا جدِ امجد کہا جاتا ہے۔

پانچ ہزار ین کے نئے نوٹ پر تسُودا اُومیکو کی تصویر ہے، جو تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے والی اولین جاپانی خواتین میں شامل تھیں۔ انہوں نے امریکہ کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی۔

ایک ہزار ین کے نئے نوٹ پر کِیتاساتو شِیباسابُورو کی تصویر ہے، جو ماہر جرثومیات ہیں۔ انہوں نے تشنج کی بیماری کے علاج میں کامیابی حاصل کی تھی۔

ان نوٹوں کے ڈیزائن میں تبدیلی 2004 کے بعد پہلی بار لائی گئی ہے۔ ان بینک نوٹوں میں نئی قسم کا ہولوگرام رکھا گیا ہے تاکہ ان کی نقل تیار کرنا مشکل ہو۔ ان کی مالیت بڑے حروف میں درج کی گئی ہے تاکہ انہیں پڑھنا آسان ہو۔

توقع ہے کہ نئے بینک نوٹ بدھ کی صبح 8 بجے کے قریب بینک آف جاپان سے مالیاتی اداروں کو فراہم کرنے کے بعد دستیاب ہوں گے۔

حکومت اور بینک آف جاپان اگلے سال مارچ تک 7.48 ارب نئے بینک نوٹ چھاپنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

نقد رقم استعمال کیے بغیر ادائیگی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث نئے نوٹوں کو متعارف کرانے کی تیاریوں میں بعض صنعتوں میں فرق پایا جاتا ہے۔

وزارت خزانہ کے ایک سروے سے پتا چلا ہے کہ 90 فیصد سے زیادہ بینک اے ٹی ایمز، یا خودکار ٹیلر مشینیں نئے نوٹوں کے اجراء کے بعد ان کا لین دین کرنے کے قابل ہوں گی، اور روز مرہ اشیائے ضروریات کے تقریباً 80 سے 90 فیصد بڑے اسٹورز اور سپر مارکیٹیں بھی ان کے لین دین کے لیے تیار ہوں گی۔

لیکن مشروبات فروخت کرنے والی صرف 20 سے 30 فیصد وینڈنگ مشینوں پر مطلوبہ رد و بدل وقت پر مکمل ہونے کی امید ہے۔