چین کے نائب وزیرِ اعظم چاقو زنی واقعے کے باوجود جاپان کے ساتھ اچھے تجارتی تعلقات کیلیے پُراُمید

چین کے نائب وزیرِ اعظم ہی لائی فینگ نے جاپان کے ایوانِ زیریں کے ایک سابق اسپیکر سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ جاپانی شہریوں پر ایک چینی شخص کے حالیہ حملے سے دوطرفہ تجارتی تعلقات متاثر نہیں ہونے چاہیئں۔ اُنہوں نے جاپانی کاروباری اداروں سے مزید سرمایہ کاری کی اپیل کی۔

چینی نائب وزیرِ اعظم نے جاپان کے ایوان زیریں کے سابق اسپیکر کونو یوہیئے کی زیرِ قیادت 87 رکنی جاپانی وفد کا پیر کے روز بیجنگ میں استقبال کیا۔ مندوبین کا تعلق جاپان کی تنظیم برائے فروغِ بین الاقوامی تجارت سے تھا۔

مذکورہ تنظیم کے عہدیداروں کے مطابق، کونو نے اُس چینی خاتون کے لیے تعزیت کا اظہار کیا جو 24 جون کو صوبہ جیانگسُو کے شہر سُوژو میں ایک جاپانی ماں اور اُن کے بچّے کو چاقو بردار حملہ آور سے بچانے کی کوشش کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔ مذکورہ چینی خاتون ایک جاپانی اسکول کے زیرِ استعمال بس پر کارکن تھیں۔

کونو نے چینی فریق سے اِس بات کا تعین کرنے کو کہا کہ آیا اِس حملے کا ہدف جاپانی شہری تھے یا نہیں۔

چینی نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ اُنہیں چینی حکام نے بتایا ہے کہ یہ حملہ ایک انفرادی واقعہ تھا۔ اُنہوں نے اِس واقعے سے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو متاثر ہونے سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا۔

کونو نے بیجنگ سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صاف صاف وضاحتیں دے کہ اُس کے نظرثانی شدہ انسدادِ جاسوسی قانون کو کس طرح نافذ کیا جا رہا ہے، اور یہ کہ جاپانی شہریوں کے لیے قلیل مدتی ویزا چُھوٹ کے منصوبے کو بحال کیا جائے۔

لیکن چینی نائب وزیرِ اعظم نے اِن درخواستوں کا کوئی خاص جواب نہیں دیا۔