چین میں جاسوسی کے شبے پر الیکٹرانک آلات کے معائنے کا قانون نافذ

چین پیر سے ایک نیا قانون نافذ کر رہا ہے جو قومی سلامتی حکام کو جاسوسی کے شبہ کی صورت میں الیکٹرانک آلات کا معائنہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ریاستی سلامتی کی وزارت اس قانون سازی پر عمل درآمد کر رہی ہے جس میں جاسوسی کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار تفویض کیا گیا ہے۔

یہ قانون افراد اور تنظیموں کے موبائل فونز، پرسنل کمپیوٹرز اور دیگر آلات کا معائنہ کرنے کے طریقہ کار کو بیان کرتا ہے۔

اس میں حکام سے بلدیات یا اعلیٰ سطحوں پر قومی سلامتی کے حکام سے منظوری لے کر نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا کہا گیا ہے۔

لیکن قانون حکام کو فوری معاملات میں موقع پر معائنہ کرنے کی اجازت دیتا ہے اگر ان کے پاس منظوری ہو اور وہ اپنے دائرہ اختیار کی وضاحت کریں۔

وزارت اس بات پر زور دیتی ہے کہ اس قانون کا مقصد قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکام اس قانون کو اس بات پر اصرار کرنے کے لیے استعمال کریں گے کہ ان کے معائنے قانونی ہیں۔

صدر شی جن پنگ کی انتظامیہ قومی سلامتی کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ اس نے کریک ڈاؤن کو سخت کرنے کے لیے پچھلے سال جولائی میں انسداد جاسوسی کے ایک نظرثانی شدہ قانون کو نافذ کرنا شروع کیا۔ عالمی برادری اس قانون سازی پر من مانی سے عمل درآمد پر تشویش کا شکار ہے۔