نوتو میں زلزلے کے چھ ماہ بعد بھی فون نیٹ ورکس کی بحالی کی جدوجہد

بحیرۂ جاپان کے ساتھ واقع جزیرہ نما نوتو میں نئے سال کے پہلے دن آئے بڑے زلزلے کو پیر کے روز چھ ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔

زلزلے سے کئی علاقوں میں مقامی موبائل فون نیٹ ورکس مفلوج ہو کر رہ گئے تھے۔ تقریباً 60 فیصد بیس اسٹیشن کیبلز کو گزشتہ آفات کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید نقصان پہنچا تھا۔

اس زلزلے نے وسطی پریفیکچر اِشی کاوا کے 24 علاقوں میں 3,300 سے زیادہ افراد کو دیگر آبادیوں سے کاٹ کر رکھ دیا تھا۔

واجیما شہر کے ایک پہاڑی علاقے میں سماجی رہنما یاماشیتا توموتاکا نے کہا کہ مٹی کے تودوں نے وہاں تک پہنچنے والی تینوں سڑکوں کو بند کر دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جھٹکوں کے فوراً بعد تمام موبائل فون اور لینڈ لائن ٹیلی فون بیکار ہو گئے۔

رہائشی، شہری حکام یا کسی اور کو مدد کے لیے بلانے سے قاصر تھے۔

جناب یاماشیتا نے کہا، "ایمبولینس کو بلانا بھی ناممکن تھا۔ مواصلات کے کسی ذریعے کے بغیر گزارہ واقعی مشکل ہے"۔

زلزلے کے چھ دن بعد، رہائشیوں کا آخر کار بیرونی دنیا سے رابطہ قائم ہونا ممکن ہوا تھا۔ زلزلے کے دس دن بعد، سیلف ڈیفنس فورسز کے ہیلی کاپٹر تقریباً 30 رہائشیوں کو محفوظ مقامات تک لے جانے کے لیے پہنچے تھے۔

پریفیکچر کے دوسرے حصوں کے لوگوں کو بھی ایسی ہی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وزارتِ مواصلات کے جائزے سے پتا چلا ہے کہ 57 فیصد کیبلز، مٹی کے تودے گرنے یا دیگر مسائل کی وجہ سے بیکار ہو گئی تھیں۔ یہ شمال مشرقی جاپان میں 2011ء کے زلزلے اور تسُونامی سے کہیں زیادہ خراب صورتحال تھی۔

تویو یونیورسٹی کے پروفیسر ناکامورا اِساؤ نے کہا، "یہاں جزیرہ نما نوتو کے پہاڑی علاقے میں زلزلے سے مٹی کے تودے گرے جس سے مواصلاتی لائنوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ لوگوں کی روزمرہ زندگی اور انتظامی امور ٹیلی مواصلات پر انحصار کرتے ہیں۔ اور یہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں مسلسل اور قابل اعتماد اطلاعاتی روابط کے ذرائع کی کسی نہ کسی شکل کو برقرار رکھنا ضروری ہے"۔