اسرائیل کا غزہ پر حملے کے دوران لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ اسرائیلی افواج نے غزہ میں شدید حملے جاری رکھتے ہوئے لبنان میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ شیعہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں میں شدّت آئی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گیلانٹ نے جمعہ کے روز کہا، ’’ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن ہم جنگ کے لیے تیار ہیں‘‘۔

اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مِشن نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر اسرائیل نے "مکمل پیمانے پر فوجی جارحیت شروع کی تو ایک تباہ کُن جنگ شروع ہو جائے گی۔ تمام مزاحمتی محاذوں کی مکمل شمولیت سمیت تمام طریقے موجود ہیں"۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ اُس نے لبنان سے گزرتے ٹینک شکن پروجیکٹائلز کو شناخت کیا، اور آتشی ذرائع کو نشانہ بنایا۔

دریں اثناء، اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ میں ایک بار پھر کاروائیاں کی ہیں۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی غزہ اور جنوب میں رفح میں بھی کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ اسرائیلی فورسز کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد کو ختم کر دیا ہے اور ایک اسکول کے احاطے میں ہتھیار ذخیرہ کرنے کی ایک جگہ کا کھوج لگایا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے شمالی غزہ شہر میں ایک مکان پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد عام شہری ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے ہیں۔