ہانگ کانگ میں قومی سلامتی قوانین کے تحت تقریر پر پکڑ دھکڑ میں شدّت

ہانگ کانگ کے لیے چین کے قومی سلامتی قانون کے نفاذ کو اتوار کے روز چار سال مکمل ہو گئے ہیں۔ یہ قانون حکومت مخالف سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

مارچ میں اِس قانون کی تکمیل کے لیے مقامی حکمنامہ نافذ ہونے کے بعد، اِس سال آزادیٔ اظہار کو دبانے میں شدّت آئی ہے۔

مذکورہ سلامتی قانون ہانگ کانگ میں بڑے پیمانے پر اختلافی مظاہروں کے شروع ہونے کے تقریباً ایک سال بعد 30 جون 2020 کو نافذالعمل ہوا تھا۔

اس قانون کے تحت جمہوریت کے حامی سیاستدانوں اور کارکنان کو گرفتار کیا گیا، اور حکومت مخالف ریلیوں اور مظاہروں پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔

گزشتہ ماہ 14 جمہوریت نواز کارکنان کو قانون کی مبینہ خلاف ورزی کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی۔ یہ افراد جمہوریت کے حامی سابق قانون سازوں سمیت اُن 47 کارکنان میں شامل ہیں، جن پر تین سال قبل بغاوت کا الزام لگایا گیا تھا۔

دیگر مدعا علیہان کی حراست میں مؤثر طریقے سے توسیع کر کے اُن کے لیے عدالتی کاروائی جاری ہے۔

ایک مقامی حکمنامہ جو مارچ میں نافذ ہوا تھا، غیرملکی اداروں کی جانب سے جاسوسی اور مداخلت کو جرم قرار دیتا ہے۔ اس میں حکومتِ چین کے خلاف نفرت کو ہوا دینے والے کاموں کے لیے سخت تر سزا بھی مقرر کی گئی ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں ایک شخص پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اُس نے مبینہ طور پر 2019ء کے احتجاج میں استعمال ہوئے نعرے والی ٹی شرٹ پہن کر قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔

ہانگ کانگ کے سلامتی حکام نے این ایچ کے، کو بتایا ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران 299 افراد کو مبینہ طور پر قومی سلامتی خطرے میں ڈالنے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔