روس نے شہریت لینے والے 10,000 افراد کو جنگ کے لیے یوکرین بھیج دیا

ایک سینئر روسی اہلکار کا کہنا ہے کہ روسی شہریت حاصل کرنے والے تقریباً 10,000 تارکین وطن کو یوکرین میں اگلے محاذوں پر بھیج دیا گیا ہے۔

یہ بات تحقیقاتی کمیٹی کے چیئرمین الیگزینڈر باسٹریکن نے جمعرات کو کہی۔

انہوں نے کہا کہ حکام نے 30,000 سے زائد غیر ملکیوں کی شناخت کی ہے جنہوں نے حال ہی میں روسی شہریت حاصل کی ہے لیکن وہ فوج میں رجسٹرڈ نہیں تھے۔

باسٹریکن نے کہا کہ حکام نے روسی قوانین کی ان شقوں پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے جن کے تحت شہریت حاصل کرنے والے افراد کو فوج کے ساتھ رجسٹر کرانے اور اگر ضروری ہو تو خصوصی فوجی آپریشن میں حصہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے تقریباً 10,000 کو یوکرین کے خصوصی فوجی آپریشن زون میں بھیج دیا گیا ہے۔

روس میں وسطی ایشیائی ممالک کے کارکنوں کی بڑی تعداد ہے۔ لیکن فوجی رجسٹریشن اور تعیناتی کی ضرورت کے اقدام کے سبب تارکین وطن نے مبینہ طور پر روس چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ بہت سے روسی فوجی یوکرین میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈی آف وار نے کہا ہے کہ روسی حکومت شہریت حاصل کرنے والے پناہ گزینوں کو بھرتی کر کے یوکرین میں تعینات کرنے کے لیے جو قانونی طریقہ حال ہی میں استعمال کر رہی ہے وہ واضح نہیں ہے۔

اس نے امکان ظاہر کیا ہے کہ روسی حکومت، شہریت حاصل کرنے والے پناہ گزینوں کو ملک بدری یا جیل جانے سے بچنے کے عوض فوجی خدمات یا رضاکار یونٹوں میں شمولیت کا معاہدہ کرنے کا موقع دے رہی ہے۔