اغواء شُدہ جاپانیوں کے رشتہ داروں کا اقوامِ متحدہ کے مذاکرے سے خطاب

شمالی کوریا کے ہاتھوں اغواء کیے گئے جاپانی شہریوں کے رشتہ داروں نے اقوامِ متحدہ کے ایک آن لائن مذاکرے سے خطاب کیا ہے۔ اُنہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اِس مسئلے کے حل کے لیے مل کر کام کیا جائے۔

جمعرات کے روز منعقدہ اس مذاکرے کا اہتمام جاپان، امریکہ، آسٹریلیاء، جنوبی کوریا اور یورپی یونین نے کیا تھا۔ شُرکاء میں جاپانی کابینہ کے چیف سیکریٹری ہایاشی یوشی ماسا شامل تھے، جو اغواء کے معاملے کے نگران وزیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔

اغواء شُدہ جاپانیوں کے خاندانوں کے ایک گروپ کے سربراہ یوکوتا تاکُویا نے مذاکرے سے خطاب کیا۔ اُن کی بڑی بہن میگُومی کو 1977 میں، 13 سال کی عمر میں اغواء کر لیا گیا تھا۔

یوکوتا نے کہا کہ اِس معاملے کو حل کرنے کے لیے وقت کی ایک حد ہے، کیونکہ اغواء شُدہ جاپانیوں میں سے اب صرف دو کے والدین زندہ ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ دو افراد میگُومی کی 88 سالہ والدہ یوکوتا ساکیئے اور اَریموتو آکی ہیرو ہیں، جو ایک اور اغواء شُدہ خاتون اَریموتو کیئکو کے 95 سالہ والد ہیں۔

یوکوتا کا کہنا تھا کہ اُن کا گروپ زور دے رہا ہے کہ اغواء شُدہ لوگوں اور اُن کے رشتے داروں کا دوبارہ ملاپ، دونوں والدین کے خیریت سے ہونے کے دوران جاپان میں ہو۔