میانمار نے پابندیوں کے باوجود ہوا بازی کے لیے زیادہ ایندھن خریدا: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار پابندیوں کے باوجود، ایوی ایشن فیول یعنی ہوا بازی کے ایندھن پر گزشتہ سال زیادہ رقم خرچ کرنے میں کامیاب رہا، جس کے باعث فوجی حکومت کو شہری اہداف کے خلاف اندھا دھند فضائی حملے کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

میانمار میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ٹام اینڈریوز نے بدھ کو ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ فوج کس طرح اپنے لیے رقم کا بندوبست کرتی اور ہتھیار حاصل کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق میانمار نے بین الاقوامی بینکاری نظام کے ذریعے 2023 میں کم از کم 8 کروڑ ڈالر مالیت کا ایوی ایشن فیول خریدا۔ یہ سال بہ سال کے اعتبار سے تقریباً 30 فیصد اضافہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران فوجی حکومت کی جانب سے شہری اہداف کے خلاف فضائی حملوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایسے مرحلے پر ہوا ہے کہ جب مزاحمتی فورسز، فوجی چوکیوں اور علاقے پر قبضہ کر رہی ہیں اور فوجیوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ میانمار پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں۔ لیکن رپورٹ میں یہ تذکرہ بھی موجود ہے کہ فوج اب تجارتی کمپنیوں اور ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹرمینلز سمیت متعدد بالواسطہ ذرائع کے توسط سے ایندھن خریدتی ہے، جس کے باعث ایندھن کی ترسیلات کا سراغ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔