یورپی یونین اور چین کے مابین برقی گاڑیوں پر مذاکرات

یورپی رہنما چین سے آنے والی برقی گاڑیوں پر عارضی محصولات عائد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کا مقصد یورپی گاڑی ساز کمپنیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ تاہم، انہوں نے بات چیت کے دروازے کھلے ہونے کا پیر کے روز اعلان کرتے ہوئے رواں ہفتے کسی وقت بات چیت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

یورپی کمیشن کے حکام نے تمام درآمدی برقی گاڑیوں پر 10 فیصد محصولات پہلے ہی عائد کر رکھے ہیں۔ انہوں نے قبل ازاں چین سے آنے والی گاڑیوں پر زیادہ سے زیادہ 38.1 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا رواں ماہ اعلان کیا تھا۔ یورپی کمیشن، گاڑی ساز کمپنیوں کو ریاست کی طرف سے دی جانے والی اعانت کی تحقیقات کر رہا ہے۔ کمیشن نے اس اعانت کو "غیر منصفانہ" قرار دیا ہے۔

حکام نے کہا کہ برسلز میں ہونے والی بات چیت میں اس معاملے کا "مؤثر حل" تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم، حل کی تلاش میں ناکام رہنے کی صورت میں تعزیری اقدامات آئندہ ماہ کے اوائل سے نافذ ہوں گے۔

جرمن چانسلر اولاف شولس نے برلن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چینی جانب سے ’سنجیدہ اقدامات اور پیش رفت کیے جانے‘ کی توقع ہے۔

چینی وزارت تجارت کے حکام کا کہنا ہے کہ ملکی گاڑی ساز کمپنیوں نے تعاون کی "پوری کوشش" کی ہے۔ پھر بھی ان کے خیال میں یورپی ٹیکس محصولات کی یہ شرح "تعزیری کارروائی" ہے۔

وزارت کے ترجمان ہے یادونگ نے کہا، "یورپ کے متعلقہ ضوابط میں حقائق اور قانونی بنیادوں کا فقدان ہے اور ان میں عالمی تجارتی تنظیم، ڈبلیو ٹی او، کے قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے منصفانہ مسابقت، اعلیٰ ٹیکنالوجی کے ذریعے ماحول کے تحفظ اور کھلے تعاون کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔"

یاد رہے کہ بائیڈن حکومت کے عہدیداروں نے چین میں بنی برقی گاڑیوں پر محصولات کو چار گنا کرتے ہوئے 100 فیصد کرنے کا گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، چینی مذاکرات کاروں کو مذاکرات کے دوران بڑے پیمانے پر چھوٹ دینے پر آمادہ ہونا ہو گا۔