جاپان میں غیرملکی سیاح کم معروف مقامات کی سیر کرنے پر راغب

ایک نئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ جاپان میں پہلے سے زیادہ غیرملکی سیاح کم معروف جگہوں کی سیر کر رہے ہیں۔

سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے پھیلنے والی معلومات غیر متوقع علاقوں میں جانے والوں کی تعداد میں اچانک اضافے میں معاونت کر رہی ہیں۔

ٹوکیو میں قائم آئی ٹی کمپنی، نیوی ٹائم جاپان نے بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے ایک سیاحتی ایپ تیار کی ہے۔ اِس کمپنی نے جی پی ایس لوکیشن ڈیٹا کی بنیاد پر مارچ سے مئی کے عرصے کے لیے سیاحوں میں سال بہ سال اضافے کی بلند شرح والے بلدیاتی علاقوں کی درجہ بندی کی ہے۔

ٹوکیو کے قریب واقع کاناگاوا پریفیکچر کا مِنامی آشی گارا شہر 32 گُنا اضافے کے ساتھ سرِفہرست ہے۔ اِس کی وجہ جلد کِھلنے والے چیری کے پھولوں کی مقامی اقسام کو دیکھنے کے لیے پارک میں آنے والے لوگوں کی تعداد تھی۔

فُکُوئی پریفیکچر کا کاتسُویاما شہر 24 گُنا اضافے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ اِس کے مشہور مقامی سیاحتی مقامات میں بُدھا کا ایک بہت بڑا مجسمہ شامل ہے، جسے ایچی زین دائی بُتسُو کہا جاتا ہے۔

مِیئے پریفیکچر کا سُوزوکا شہر تیسرے نمبر پر آیا، جہاں ایک سال پہلے کے مقابلے میں آنے والوں کی تعداد تقریباً سات گُنا زیادہ تھی۔

نیوی ٹائم کا کہنا ہے کہ جاپان میں بار بار آنے والے سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے پہلے سے زیادہ لوگ غیر معروف جگہوں پر جانا چاہتے ہیں۔ اُس کا کہنا ہے کہ سوشل نیٹ ورک کی پوسٹنگز آنے والوں کی تعداد میں اضافے کو بڑھا رہی ہے۔

رِیُوکوکُو یونیورسٹی کے پروفیسر آبے دائی سُکے، جو شہری منصوبہ بندی میں مہارت رکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ غیرملکی سیاحوں میں تیزی سے اضافہ مخصوص علاقوں میں ہی ہوتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ تمام علاقے سیاحت کے عروج سے مستفید نہیں ہو رہے ہیں، جس کی وجوہات میں کارکنان کی کمی بھی شامل ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ رہائشیوں سمیت مقامی متعلقہ اداروں وغیرہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِس بات پر تبادلۂ خیال کریں کہ سیاحوں کا خیرمقدم کیسے کیا جائے اور سیاحتی حکمتِ عملی طے کی جائے۔