شمالی کوریا کی جوہری و میزائل ترقی میں روسی مدد کا امکان، امریکی انتباہ

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا کو جوہری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کے پروگرام میں روس سے مدد مل سکتی ہے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ کرٹ کیمبل پیر کو واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس کی میزبانی امریکہ میں قائم تجزیاتی ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز نے کی تھی۔

جناب کیمبل نے نشاندہی کی کہ پیانگ یانگ نے یوکرین میں فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے ماسکو کو فوجی معاونت فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا کو اس معاونت کا صلہ دیے جانے کے بارے میں بات چیت جاری ہے، جس کا تعلق اس کے جوہری یا طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی ترقی کے منصوبوں یا پھر توانائی کے شعبے میں دیگر معاملات سے جوڑا جا سکتا ہے"۔

گزشتہ ہفتے دونوں ممالک نے جامع تزویراتی شراکتداری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ روس اور شمالی کوریا میں سے کسی ایک ملک پر حملہ یا حالتِ جنگ میں ہونے کی صورت میں دونوں ایک دوسرے کو فوجی معاونت فراہم کریں گے۔

جناب کیمبل نے دونوں ممالک میں فوجی تعاون کو بڑھانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس معاہدے کے بعد ہونے والی پیشرفت کا بغور مشاہدہ کر رہا ہے۔