جاپانیوں کے لیے آسٹریلیا کے ورکنگ ہالیڈے ویزوں میں اضافہ

آسٹریلوی حکومت کے اعدادوشمار سے پتہ چل رہا ہے کہ جاپانی درخواست دہندگان کو دیے جانے والے ورکنگ ہالیڈے ویزوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

جون 2023ء تک 14 ہزار سے زیادہ ویزے جاری کیے گئے اور رواں سال مارچ تک کے 9 مہینوں میں یہ تعداد پہلے ہی 12 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

کمزور ین اُس نظام کی مقبولیت کو بڑھا رہا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو طویل مدت تک دوسرے ملک میں رہنے اور کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جاپان کے اس وقت آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا اور جنوبی کوریا سمیت 30 ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے ہیں۔ انگریزی بولنے والے علاقے خاص طور پر مقبول ہیں اور تخمینہ ہے کہ، نصف سے زیادہ جاپانی لوگ جن کے پاس کام کر سکنے والی تعطیلات کے ویزے ہیں، وہ آسٹریلیا گئے ہیں۔

آسٹریلیا میں کم از کم اجرت جولائی میں 3.75 فیصد بڑھا کر 24.1 آسٹریلوی ڈالر، یا 2,500 ین فی گھنٹہ سے زیادہ کر دی جائے گی۔

تاہم، کچھ مسائل کی اطلاع بھی دی گئی ہے جیسا کہ بعض لوگوں کو کم از کم اجرت سے کم اجرت دی جاتی ہے یا پھر انہیں جنس یا طاقت کی بنیاد پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

میلبورن یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اواِشی نانا کا کہنا ہے کہ کچھ ملازمتوں میں زیادہ اجرت ملتی ہے، لیکن اگر کارکنوں کی انگریزی بولنے کی استعداد ناکافی ہو، تو انہیں کام تلاش کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے یا انہیں کم از کم اجرت سے کم اجرت دی جا سکتی ہے۔