جاپان میں نل کے پانی میں PFAS کیمیائی ارتکاز کا ملک گیر سروے شروع

حکومتِ جاپان نے نلکے کے پانی میں ممکنہ طور پر نقصان دہ کیمیکلز کی سطح پر ایک ملک گیر جائزہ شروع کیا ہے، جنہیں PFAS کہا جاتا ہے۔

وزارتِ ماحولیات اور بنیادی ڈھانچے کی وزارت نے مقامی حکومتوں اور پانی کی خدمات فراہم کرنے والوں سے کہا ہے کہ وہ مالی سال 2020ء کے بعد سے پانی کے معیار کے معائنوں کے نتائج کی اطلاع دیں۔ حتمی تاریخ ستمبر کا اختتام ہے۔

سروے کے شرکاء سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا انہوں نے PFAS کے لیے معائنے کیے ہیں یا نہیں۔ اگر اِن نامیاتی فلورین مرکبات کا پتہ چلے، تو اُن سے کہا جاتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ ارتکاز کی اطلاع دیں۔

اگر انہوں نے اس طرح کے معائنے نہ کیے ہوں، تو ان سے وضاحت کرنے کو کہا جاتا ہے کہ کیوں، اور کیا وہ مستقبل میں ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ کچھ مرکبات نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں، اوکایاما پریفیکچر کے کیبی چُواو قصبے میں نلکے کے پانی کی جانچ میں ان کی سطح حکومت کے عارضی ہدف سے 28 گنا زیادہ پائی گئی تھی۔

ملک گیر صورتحال نامعلوم ہے کیونکہ PFAS معائنے رضاکارانہ ہیں۔

مقامی حکومتیں اور پانی کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے، جنہوں نے کبھی بھی اس طرح کے معائنے نہیں کیے ہیں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ 30 ستمبر تک کم از کم ایک معائنہ کرائیں اور نتائج کی اطلاع دیں۔

وزارتوں کا کہنا ہے کہ جب وہ ابتدائی ہدف کا جائزہ لینے پر غور کریں گی تو اس وقت اس جائزے کے اعداد و شمار کو استعمال کیا جائے گا۔