جنگِ اوکیناوا کی 79 ویں برسی منائی گئی

جاپان کے جنوبی پریفیکچر اوکیناوا کے لوگ گھمسان کی ایک زمینی جنگ کی یاد منا رہے ہیں جو 79 سال قبل دوسری جنگِ عظیم کے اختتامی مراحل میں لڑی گئی تھی۔

اِتومان شہر کے امن یادگاری پارک میں ایک تقریب منعقد کی گئی جہاں آخری معرکہ ہوا تھا۔ شرکاء نے ایک لمحے کی دعائیہ خاموشی اختیار کی۔

وزیرِ اعظم کِشیدا فُومیو نے کہا، "میں اوکیناوا کے تمام متاثرین سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم پُرعزم ہیں کہ جنگ کی تباہ کاریوں کو دوبارہ کبھی نہیں ہونے دیں گے اور ایک ایسی دنیا کے حصول کے لیے جدوجہد کریں گے جہاں ہر کوئی خوشی اور امن سے رہ سکے"۔

جنگِ اوکیناوا میں دو لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے یعنی اوکیناوا کے تقریباً ایک چوتھائی عام شہریوں کی جانیں گئی تھیں۔

اوکیناوا 23 جون 1945ء کو، جاپان کی شاہی فوج جو اب وجود نہیں رکھتی، اور امریکی زیرِ قیادت افواج کے درمیان منظم لڑائی کے آخری دن کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔

اوکیناوا میں قائم ایک تجزیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ جنگ کے تجربے سے گزرنے والے اوکیناوا کے رہائشیوں کی تعداد اب اِس پریفیکچر کی آبادی کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔