جاپان کی حکمراں جماعت شادی شدہ جوڑوں کے الگ الگ خاندانی ناموں پر بات چیت دوبارہ شروع کرے گی

جاپان کی مرکزی حکمراں جماعت، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے اِس امر پر اندرونی بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ آیا شادی شدہ جوڑوں کو الگ الگ خاندانی نام رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں۔

لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی عملی ٹیم اس مسئلے پر بحث دوبارہ شروع کرے گی۔

اِس جماعت کی قیادت، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی اُمور کے سابق سربراہ آئِیساوا اِچیرو کو مذکورہ ٹیم کا چیئرپرسن مقرر کرنے کے لیے رابطہ کاری کر رہی ہے۔ یہ عہدہ خالی پڑا ہے۔

جاپان بزنس فیڈریشن، کئِیدانرین، نے رواں ماہ کے اوائل میں ایک تجویز مرتب کی تھی، جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ضروری قانونی نظرثانی کرے تاکہ علیحدہ خاندانی نام رکھنے کے انتخاب کی اجازت دی جائے۔

کئیدانرین کی جانب سے اپنی تجویز مرتب کیے جانے کے بعد سے تبدیلی کے حامی اور محتاط خیالات رکھنے والے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے قانون سازوں نے الگ الگ اجلاس منعقد کیے ہیں۔

لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت اس مسئلے کا محتاط انداز میں جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔