جاپانی خلائی ایجنسی کی سائبر حملوں اور ممکنہ ڈیٹا لیک پر رپورٹ

جاپانی خلائی تحقیقی ادارے، جاکسا کا کہنا ہے کہ اسے گزشتہ سال سے لے کر اس سال تک متعدد سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور ممکن ہے کہ کچھ ڈیٹا لیک ہوا ہو۔

معاملے سے باخبر قریبی ذرائع کے مطابق جس ڈیٹا کو ہدف بنایا گیا، اُس میں انتہائی خفیہ دستاویزات شامل ہوسکتی ہیں۔

جاکسا کا کہنا ہے کہ اسے پچھلے سال غیر مجاز بیرونی سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کی وجہ سےعملے کی ذاتی معلومات ممکنہ طور پر جاکسا کے سرورز یعنی مرکزی کمپیوٹرز سے لیک ہوئیں۔

خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ تب سے یہ جائزہ لیا جا رہا تھا کہ کس حد تک نقصان ہوا اور نظام کو کیسے نشانہ بنایا گیا، لیکن سائبر حملے رواں سال تک جاری رہے۔

ایجنسی کے مطابق لیک ہونے والے ممکنہ ڈیٹا کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس نے سیکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔

جاکسا کا کہنا ہے کہ راکٹ اور سیٹلائٹ آپریشن جیسی، قومی سلامتی سے متعلقہ معلومات ایک الگ نیٹ ورک پر رکھی جاتی ہیں اور سائبر حملوں میں وہ نقصان سے محفوظ رہیں۔