اوپن ہائیمر نے ایٹم بم متاثرین سے کہا تھا 'مجھے افسوس ہے'

NHK کو ہیروشیما شہر سے ملنے والی ایک نئی ویڈیو فوٹیج کے بارے میں معلوم ہوا ہے جس میں ایک مترجم گواہی دے رہی ہیں کہ جے رابرٹ اوپن ہائیمر 60 سال پہلے ایٹم بم متاثرین کو "مجھے افسوس ہے" کہتے ہوئے رو پڑے تھے۔

اوپن ہائیمر ایک نظریاتی طبیعات دان تھے جنہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران ایٹم بم تیار کرنے کے امریکی منصوبے کی نگرانی کی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ وہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے ایٹم بم حملوں سے ہونے والی ہولناک تباہی پر دکھی تھے۔ لیکن اطلاعات کے مطابق 1960ء میں جب وہ جاپان آئے تو انہوں نے اِن شہروں کا دورہ نہیں کیا تھا۔

ہیروشیما میں قائم ایک غیر منافع بخش تنظیم کے پاس موجود اِس فوٹیج میں مترجم ’تائی ہِیرا یوکو‘ کو 2015ء میں ایٹم بم متاثرین کے 1964ء کے دورۂ امریکہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان متاثرین کو جاپانی میں ہِباکُوشا کہا جاتا ہے۔

محترمہ تائی ہیرا، نے اوپن ہائیمر اور ان کے ساتھی نظریاتی طبیعات دان شونو نااومی اور دیگر جاپانی مہمانوں کے درمیان بند کمرے میں ہونے والی ملاقات کو بیان کیا ہے۔ شونو ہیروشیما میں پیدا ہونے والے ہِباکُوشا ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ جب یہ سب لوگ اوپن ہائیمر سے ملنے کے لیے کمرے میں گئے تو ان کا چہرہ پہلے ہی آنسوؤں سے تر تھا اور وہ بار بار کہہ رہے تھے "مجھے افسوس ہے"۔

ماہر طبیعات جناب شونو نے اس ملاقات کا ذکر اپنے ہائی اسکول کے سابق طالبعلموں کے نیوز لیٹر میں کیا ہے۔ انہوں نے تحریر کیا ہے کہ اوپن ہائیمر نے کہا کہ وہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے اور یہ کہ ان الفاظ سے وہ دکھ عیاں ہو رہا تھا جو وہ محسوس کر رہے تھے۔